اسلام آباد(سی این این نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ عوام جاگ گئے ہیں، دھرنے والوں کا پیغام پورے ملک میں پھیل چکا ہے، شہباز شریف اس سال بوٹ پہن کر سیلاب متاثرین کو بے وقوف نہیں بنا سکے اسی لئے میں جہاں بھی گیا لوگوں نے ’عمران خان‘ کی بجائے ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگائے، گرفتاریوں پر چیف جسٹس از خود نوٹس لیں، پولیس تھک جائے گی لیکن یہ عوام نہیں تھکے گی۔آزادی مارچ سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ اس دھرنے سے پاکستانیوں کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں، وہ لوگ جنہوں نے کبھی سیاست میں دلچسپی نہیں لی تھی وہ بھی اپنے حقوق کا پوچھ رہی ہیں، جس دن دوسروں پر ہونے والے ظلم کے خلاف عام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اس دن نیا پاکستان بنے گا۔ جو قومیں دوسروں کا احساس کرنا چھوڑ دیں وہ مردہ ہو جاتی ہیں۔ سیلاب متاثرین کا برا حال ہے، ان کا سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، ساری فصلیں اجڑ گئی ہیں، محکمہ موسمیات نے 2مہینے پہلے بتایا کہ بارشیں آنے والے ہیں مگر نواز شریف کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا، میاں صاحب کو پیسے کمانے سے فرصت ملتی تو پتا چلتا،ان کا پیٹ صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے، اس ظلم کے ذمے دار میاں برادران ہیں، اس کے بعد اسمبلیوں میں جھوٹ بولتے ہیں۔ سیلاب آیا تو اپنے لوگوں کی شوگر ملز بچانے کے لئے غریبوں کو تباہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 250کروڑ روپے سے نواز شریف کی رمضان شوگرمل کے لئے پل تعمیر کیا گیا، جھنگ کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ شوگر ملز کے لئے ہم سے گنا لے کر پیسے نہیں دیئے گئے تھے اور اب کہا جا رہا ہے کہ 30 فیصدکٹوتی کر کے دیں گے۔ نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار نے خود ان کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تصدیق کی اورمیں ان کو چور نہ کہوں، یہ لاہور میں اور اسلام آباد میں لوگوں کو گولیاں مروائیں اور اس سے لوگ شہید ہو جائیں تو کیا میں ان کو قاتل نہ کہوں؟ کپتان نے کہا کہ نواز شریف وہی حرکتیں کر ہے ہیں جو ہارنے والا کپتان کیا کرتا ہے،آپ کا پیغام پور ے پاکستان میں پہنچ چکا ہے۔،شہباز شریف ’بوٹ‘ پہن کرسیلاب متاثرین کو بے وقوف نہیں بنا سکے اور آج سیلاب متاثرین کے پاس گیا تو’ عمران خان ‘کے نعرے نہیں لگے بلکہ ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگے۔ پنجاب میں سیلاب سے متعلق جسٹس منصور نے رپورٹ میں کہا کہ بند بنائے جائیں، پنجاب میں عمل نہیں ہوا مگر خیبر پختونخواہ میں ہم بند بنا رہے ہیں اور سیلابی پانی سے بجلی بنائیں گے۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ آج جمہوریت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جمہوریت میں شفا ف انتخابات سے حکومت کا قیام، قانوں کی نظر میں سب ایک برابر اوربنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے مگر پاکستان میں صورتحال سب کے سامنے ہے۔یہاں تو ساری جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، محبوب انور نے بیلٹ پیپرز چھپوا کر ن لیگ کو دیئے، وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ہر حلقے میں 70ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ نواز شریف نے انتخابات میں دھاندلی کی اور عدلیہ کے میرجعفر افتخار چوہدری نے اس کا ساتھ دیا، اور جب ان کے سامنے کیس گیا تو چھوٹی چھوٹی بات پر از خود نوٹس لینے والے شخص نے کہا کہ 20ہزار پیٹیشنز پڑی ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان بھی جعلی وزیر اعلی ہیں، وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے،ان کے مقابلے پر الیکشن لڑنے والے احسان شاہ نے بتایا کہ وہ بلوچستان میں جیت گئے تھے مگر ریٹرننگ آفیسر نے ووٹ مسترد کر دیئے، وہ اپیل میں ریاض کیانی کے پاس آئے جس نے ان کو دوبارہ گنتی کی یقین دہائی کروائی اور پھر ایک فون کال پر انہوں نے درخواست ہی مسترد کر دی۔عمران خان نے انکشاف کیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق1980 سے2013 تک60 لاکھ پاکستانی ملک سے باہر گئے، ان میں سے 27لاکھ پروفیشنلز صرف پچھلے 5سالوں میں بیرون ملک گئے۔ یونیسیف کہتا ہے کہ پاکستان میں 1کروڑ 20لاکھ بچے مزدوری کرتے ہیں، 55لاکھ بچے سکول میں نہیں جاتے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے،دنیا میں سب سے زیادہ ہر 30سیکنڈ میں ایک ماں مرتی ہے، 2سال کی عمر میں سب سے زیادہ بچے یہاں مرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکانومک فورم کے مطابق 140ملکوں میں سے پاکستان کا اکانومی میں 106نمبر ہے ،پاکستان وہ ملک ہے جو ان 10ملکوں میں جہاں سرمایہ کاری کرنے میں سب سے زیادہ مشکلات ہیں، اس کے وجہ کرپشن کی انتہاءہے اورجو قومیں فیل ہونے جا رہی ہیں، اس میں 2005میں ہم 34نمبرپر اور اب 10ویں نمبر پر ہیں۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو جھوٹ بولنے میں بالکل شرم نہیں آتی، انہوں نے الیکشن سے پہلے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا اور آج وزیر اعظم کا ایک دن کا خرچہ 21لاکھ ہے، یہ 150کروڑ روپے بیرون ملک دوروں پر خرچ کر چکے ہیں ،ہماری حکومت آئے گی تو ایوان صدر کو بھی خالی کروائیں گے، اس کا ایک دن کا خرچہ 20لاکھ ہ روپے ہے۔ آج قیدیوں کی رہائی کروانے سے متعلق واقعہ سانتے ہوئے ان کہنا تھا کہ صبح میں جا رہا تھا تو راستے میں قیدیوں کی گاڑیوں میں اپنے کارکن نظر آ گئے ، میں نے پولیس سے پوچھا کہ جن کو گرفتار کیا ان کا کیا جرم تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ دھرنے میں شامل تھے، پولیس والے نے کہا کہ ہم تو خود سمجھتے ہیں کہ آپ ٹھیک کر رہے ہیں مگر اوپر سے احکامات ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان پرامن دھرنے میں شمولیت پر گرفتاریوں پر از خود نوٹس لیں، بغیر وجہ کسی کو گرفتار کرنا جرم ہے اور اس جرم کے خلاف یہ کام کرنے پر میرے اوپر ایف آئی آر کٹوا دی گئی ہے، کل رات کو میرے گھر کے باہر 1500پولیس والے بھیجے گئے۔ اگر ایک لاکھ پولیس والے بھی بھیج دیئے جائیں تو یہیں رہیں گے، یہ پولیس تھک جائے گی مگر ہماری عوام نہیں تھکے گی
Subscribe to:
Post Comments
(
Atom
)

Post a Comment